عمران امین

              *شاعر*

شہر کے وسط میں ایک بڑے سے میدان میں روشنیوں سے جگمگاتا ہوا خوبصورت اسٹیج شہر کے نامور شعراء، ادباء، تعلیمی، سماجی اور سیاسی شخصیات سے بھرا ہوا تھا. پیچھے بڑے سے بینر پر کل ہند مشاعرہ... زیر صدارت جناب رفیق کبیر.... شمع فروزی بدست جناب منور اعظمی.... مہمان خصوصی اسکول بورڈ چئیرمین  جناب اسماعیل سیٹھ چونے والے..... وغیرہ لکھا ہوا تھا. اگلی قطار کے درمیان میں رفیق کبیر بیٹھا ہوا تھا ، اس کے دائیں جانب منور اعظمی اور بائیں  جانب اسماعیل سیٹھ چونے والے رونق افروز تھے. ان کے آس پاس شہر کی دیگر معزز ہستیاں جلوہ افروز تھیں . ان کے پیچھے کبیر کے حاشیہ بردار شعراء کی قطار تھیں جو آرام سے اکڑ کر بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے چہرے پر فخر و انبساط و اطمینان نظر آرہا تھا جب کہ بالکل آخر میں دیگر معزز شعراء جگہ کی قلت کے باعث کافی سمٹے اور سہمے ہوئے  بیٹھے تھے، ان کے ساتھ ہی درمیان میں کالی رنگت اور  مدقوق چہرے والا دبلا سا شہر کا ابھرتا ہوا نوجوان شاعر اشفاق احمد اشفاق تازہ غزل کے ساتھ  اپنی باری کا شدت سے انتظار کرتا بیٹھا ہوا تھا. 
   شہر کے MLA کا اکلوتا بیٹا رفیق کبیر عزت و شہرت اور ناموری کا دلدادہ تھا. شہرت حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا. چنانچہ کچھ حاشیہ بردار ادباء و شعراء کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتا جو اپنی تخلیقات کو چند ٹکوں کے عوض کبیر کی نذر کر دیتے تھے. جھوٹی شہرت حاصل کرنا کبیر کی روحانی غذا تھی چنانچہ ان کو اپنے نام سے پیش کرکے کبیر روحانی غذا حاصل کرتے رہتا. اس کے لئیے وہ اکثر ادبی نشستیں اور مشاعروں کا انعقاد کرواتے رہتا جس میں شاعروں اور ادیبوں کی اچھی خاصی تعداد اس کی ہمنوا ہوتی جو کبیر کی جھوٹی تعریف کرنے کے لیے ہی حاضر ہوتے تھے . ان کی اس ذلیل حرکت پر جہاں انہیں مناسب مشاہیرانہ ملتا وہیں ان کا شہر میں سیاسی اثر و رسوخ بھی بڑھتا جاتا.  اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے جو جتنا زیادہ ملاتا اسے اتنی ہی زیادہ پزیرائی ملتی. 
مشاعرہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا. ناظم مشاعرہ حامد رانا دلگیر رفیق کبیر کو دعوت سخن دینے میں مبالغہ کی حدود کو پھلانگ کر  اغراق تک پہنچ گیا. 
   "حضرات..... اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے ہر دل عزیز شاعر  رفیق کبیر صاحب سے محظوظ ہوں جن کا شمار شہر کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے. جن کی شاعری ہر نوجوان دل کی دھڑکن اور بزرگوں کے قلب کے لیے اطمینان کا باعث بن گئی ہےان کی غزلوں میں جو حسن، رعنائی، دلکشی، رنگینی، سوز و گداز،نازک خیالی، بے تکلفی، شوخی خیال، وارفتگی، بے ساختگی، تازگی، شایستگی، شگفتگی، اور معنی آفرینی پائی جاتی ہے وہ کم ہی شعراء کے حصے میں آئی ہے. "
ناظم کی مبالغہ آرائی سے آخری صف میں بیٹھے شعراء کے چہروں پر بے اطمینانی صاف جھلک رہی تھی. اس دوران اشفاق احمد اشفاق ناظم کی چاپلوسی سے دل برداشتہ ہوکر اپنی نظروں کو نیچے زمین پر مرکوز کر کے شرمندگی کے احساس کے ساتھ بیٹھا رہا. ناظم پورے جوش و خروش کے ساتھ چاپلوسی کے سارے ریکارڈ توڑنے کی سر جوڑ کوشش کررہا تھا. 
" حضرات.... موصوف نےخارجی ماحول کی عکاسی گہرے فنی شعور کے ساتھ کی ہے جس میں آہستہ روی، نرمی، جدت پسندی، بلند آہنگی، تحیر خیزی اور گھلاوٹ کے ساتھ ساتھ ترنم، موسیقیت اور بلا کی غنائیت پائی جاتی ہے.
ان کی مخصوص فطرت اور ذہنی ساخت نے ان کی زندگی میں ایک قلندرانہ شان پیدا کر دی جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں رندی و درویشی، بے نیازی،  استغنا اور مسائل تصوف کا بیان کثرت سے ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کی شاعری سرا سر وہبی معلوم ہوتی ہے. موصوف نے اردو شاعری کو سطحی جذباتیت، غیر صحتمند رومانیت اور لفظی بازیگری کے تنگ دائروں سے نکال کر  زندگی اور زندگی کے تقاضوں سے قریب تر کیا ہے. حضرات آئیے ہم عصر حاضر کے میر، غالب، داغ اور فیض جناب رفیق کبیر کو سنتے ہیں..... "
ناظم کی جرات رندانہ پر آخری صف کے شعراء میں کچھ چہ می گویاں ہوئیں. اشفاق احمد اشفاق شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈال کراپنی تازہ غزل کو مروڑتا اٹھ کھڑا ہوا اسٹیج سے اتر کر قریب ہی رکھے ہوئے کوڑے دان کی طرف مڑے تڑے کاغذ کو پھینکتے ہوئے مشاعرہ گاہ سے باہر نکل گیا.

                   عمران امین
 
  مالیگاؤں 
Mob 9867325358